پٹنہ، 20؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )بہار انٹرمیڈیٹ امتحان میں ٹاپرس گھو ٹالہ کے مبینہ ماسٹرمائنڈ بہار اسکول ایگزامنیشن بورڈ(بی ایس ای بی ) کے سابق صدرلال کیشور پرساد سنگھ اور ان کی اہلیہ اور جے ڈی یو کی سابق رکن اسمبلی اوشا سنہا کو آج اتر پردیش کے وارانسی سے گرفتارکرلیا گیا۔پٹنہ کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ(ایس ایس پی)منو مہاراج نے میڈیا کو بتایاکہ لال کیشور سنگھ اور ان کی اہلیہ اوشا سنہا کو وارانسی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ٹاپرس میرٹ گھوٹالے کی جانچ کرنے والی خصوصی تفتیشی ٹیم(ایس آئی ٹی)کی قیادت کر رہے ایس ایس پی نے بتایا کہ ایس آئی ٹی کو دونوں کے ہمسایہ ریاست اتر پردیش کے وارانسی میں ایک مندر میں چھیپے ہونے کے سلسلے میں خفیہ اطلاع ملی تھی، جس کے بعد ایس آئی ٹی نے انہیں گرفتار کر لیا۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں تفصیلی معلومات بعد میں دی جائے گی۔بہار انٹرمیڈیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں کے سلسلے میں پولیس کی طرف سے لال کیشور سنگھ اور ٹاپرس گھوٹالے میں شریک ملزم ان کی بیوی اوشا سنہا کے خلاف پٹنہ ہائی کورٹ سے گرفتاری وارنٹ حاصل کرنے کے بعد دونوں روپوش ہو گئے تھے۔لال کیشور سنگھ کی جائیداد قرق کرنے کے سلسلے میں ایس آئی ٹی کے پاس عدالت کا حکم تھا، جس کی آج تعمیل کی جائے گی۔ہلسا سے جے ڈی یو کی سابق رکن اسمبلی اور پٹنہ میں گنگا دیوی کالج سے ہیڈماسٹرکے عہدے سے ہٹائی جا چکیں اوشا سنہا اس معاملے میں شریک ملزم ہیں۔معاملہ میں موٹی رقم کے بدلے میں نااہل طلبا کو مبینہ طور پر ڈگری دی جاتی تھی۔پولیس نے بتایا کہ ویشالی میں واقع بشن رائے انٹرمیڈیٹ کالج کے سکریٹری اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر بچہ رائے پہلے سے ہی پولیس کی گرفت میں ہیں اور اسی نے یہ ڈگری ریکیٹ معاملہ کے سرغنہ لال کیشور سنگھ اور ان کی بیوی کے بارے میں اطلاع دی تھی۔غور طلب ہے کہ آرٹ اور سائنس ٹاپرس روبی رائے اور سوربھ شریشٹھ اسی کالج سے آتے ہیں۔بچہ رائے کو گزشتہ ہفتے ہی کالج کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس کے کالج اور ویشالی میں واقع اس کے گھر پر کی گئی چھاپہ ماری میں اس مشتبہ ریکیٹ سے وابستہ کئی ثبوتوں کا پتہ چلا تھا۔پولیس نے حال ہی میں اس کے گھر میں بھوس کے ڈھیر کے نیچے چھپا کر رکھے گئے تقریبا 20کلو گرام سے زائد کا سونا ضبط کیا تھا۔بی جے پی کے سینئر لیڈر سشیل کمار مودی نے الزام لگایا کہ بچہ رائے راشٹریہ جنتا دل کا سرگرم کارکن تھا اور اس نے تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو کی بالترتیب ویشالی ضلع میں راگھوپور اور مہوا سیٹ سے جیت یقینی بنانے کے لیے لالو پرساد سے بھی زیادہ کام کیا تھا۔